حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، چنئی-تمل ناڈو/ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا محمد معراج رنوی، امام جمعہ پیرس، چنئی، تمل ناڈو نے خطبۂ جمعہ میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے تاریخی خطبۂ فدک کی قرآنی، عقائدی، اخلاقی اور سیاسی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خطبۂ فدک اسلامی تاریخ کا ایک اہم خطاب ہے، جس میں قرآن مجید کی تعلیمات، توحید و رسالت، اسلامی احکام، قانونِ وراثت اور امتِ مسلمہ کی دینی ذمہ داریوں کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا ہے۔
مولانا محمد معراج رنوی نے کہا کہ خطبۂ فدک کو صرف فدک کی ملکیت کے مطالبے تک محدود کرکے نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس کے قرآنی استدلال، فکری گہرائی اور تاریخی پس منظر کا سنجیدہ مطالعہ ضروری ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے خطاب میں قرآن مجید کی آیات کے ذریعے اپنے موقف کو واضح فرمایا اور مسلمانوں کو دینی اصولوں، احکامِ الٰہی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی طرف متوجہ کرتے ہوئے مسلمانوں اور مسلمانوں کے حاکم کے منافقانہ رویہ اور دین اسلام سے ان کی غفلت اور احکام اسلام کی پامالیوں پر ان کی خاموشی کو بیان کیا ہے!
قرآن مجید کی روشنی میں رسول اکرمؐ کی تعلیمات
مولانا رنوی نے سورۂ توبہ کی آیت 128 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ساتھ شفقت، خیر خواہی اور رحمت کو بیان فرمایا ہے۔ رسول اللہؐ کی پوری زندگی انسانیت کی ہدایت، اصلاحِ معاشرہ اور قیامِ اخلاق کے لیے وقف رہی۔ آپؐ نے ایک منتشر معاشرے کو ایمان، اخوت، عدل اور انسانی احترام کی تعلیم دی۔
"انہوں نے کہا کہ رسول اکرمؐ کی رحلت کے بعد بھی آپؐ کی تعلیمات پر عمل کرنا اور آپؐ کے اہل بیت علیہم السلام کے مقام و حقوق کو سمجھنا مسلمانوں کی اہم دینی ذمہ داری ہے"
سیرتِ نبویؐ کا حقیقی اتباع اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان اپنی عملی زندگی میں عدل، امانت، تقویٰ اور حقوق کی ادائیگی کو اہمیت دیں۔
تقویٰ اور دینی اصولوں پر ثابت قدمی
امام جمعہ پیرس نے سورۂ آل عمران کی آیت 102، «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ»، کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ تقویٰ اسلامی زندگی کی بنیاد ہے۔
حقیقی تقویٰ صرف عبادات اور ظاہری اعمال تک محدود نہیں، بلکہ انسان کے انفرادی، معاشرتی اور اجتماعی فیصلوں میں بھی اس کا اظہار ہونا چاہیے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ دینی معاملات میں قرآن مجید کے احکام، عدل و انصاف اور شرعی اصولوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اگر معاشرے میں حقوق کی ادائیگی، دیانت اور جواب دہی کو نظرانداز کیا جائے تو اسلامی تعلیمات کے عملی نفاذ میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
اس لیے ہر مسلمان کو اپنے اعمال اور فیصلوں کا جائزہ قرآن و سنت کی روشنی میں لینا چاہیے۔
رحلتِ رسولؐ کے بعد امت کی ذمہ داریاں
مولانا محمد معراج رنوی نے سورۂ آل عمران کی آیت 144 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید مسلمانوں کو یہ بنیادی حقیقت یاد دلاتا ہے کہ "رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد بھی دینِ اسلام کی تعلیمات پر ثابت قدم رہنا ضروری ہے"
انہوں نے کہا کہ کسی عظیم شخصیت کی رحلت سے اس کے پیغام اور تعلیمات کی اہمیت ختم نہیں ہوتی، بلکہ بعد میں آنے والی نسلوں پر ان تعلیمات کی حفاظت اور ان کے مطابق زندگی گزارنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
خطبۂ فدک کے تاریخی پس منظر میں اس آیت پر غور کرنے سے یہ سوال نمایاں ہوتا ہے کہ امت اپنے دینی اصولوں، قرآنی احکام اور رسول اکرمؐ کی تعلیمات سے کس حد تک وابستہ رہتی ہے۔
قانونِ وراثت اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا استدلال
مولانا رنوی نے خطبۂ فدک کے اہم ترین مباحث میں قانونِ وراثت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبے میں انبیائے کرام کی وراثت سے متعلق قرآنی آیات پیش فرمائیں۔
ان میں سورۂ مریم کی آیت 6 میں حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا اور سورۂ نمل کی آیت 16 میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث ہونے کا ذکر شامل ہے۔
سورۂ مریم میں حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کے الفاظ ہیں: «يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ»
ترجمہ: وہ میرا وارث ہو اور آلِ یعقوب کا وارث ہو۔
جبکہ سورۂ نمل میں ارشاد ہوتا ہے: «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ»
ترجمہ: اور سلیمان، داؤد کے وارث ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ان آیات کی روشنی میں خطبۂ فدک کا مطالعہ اسلامی قانونِ وراثت اور قرآنی استدلال کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے ان قرآنی شواہد کے ذریعے اپنے موقف کی وضاحت فرمائی۔ اس تاریخی مسئلے کی مکمل تفہیم کے لیے وراثت، ہبہ، ملکیت اور متعلقہ روایات کے مباحث کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے، تاکہ قرآن مجید کی آیات اور تاریخی روایات کا علمی و تحقیقی جائزہ لیا جاسکے۔
خطبۂ فدک اور حقوقِ اہل بیتؑ
امام جمعہ پیرس نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی علم، ایثار ، عبادت، صبر، شجاعت، استقامت حق گوئی اور دینی بصیرت کا روشن نمونہ ہے۔
آپؑ کا خطبۂ فدک اسلامی تاریخ میں اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں دینی اصولوں کی وضاحت کے ساتھ امت کی اجتماعی ذمہ داریوں اور معاشرتی عدل کے تقاضوں پر توجہ دلائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے حقیقی وابستگی کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان علم و تحقیق، اخلاقی استقامت، حق گوئی اور عدل و انصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اہل بیتؑ کی سیرت کا پیغام محض تاریخی واقعات کو یاد کرنا نہیں، بلکہ ان کے اخلاقی اور دینی اصولوں کو عملی زندگی میں اختیار کرنا بھی ہے۔
اسلامی تاریخ کے مطالعے میں علمی دیانت کی ضرورت
مولانا محمد معراج رنوی نے اس بات پر زور دیا کہ خطبۂ فدک جیسے تاریخی موضوعات کا مطالعہ اصل متن، قرآنی آیات، معتبر تاریخی مآخذ اور متعلقہ روایات کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔ تاریخی واقعات کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ نصوص، روایات اور ان سے اخذ کیے جانے والے نتائج میں فرق ملحوظ رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ کا علمی مطالعہ نئی نسل میں تحقیق، استدلال اور دینی بصیرت پیدا کرتا ہے۔ قرآن مجید کی آیات کو ان کے سیاق و سباق میں سمجھنا اور تاریخی مباحث کو مستند دلائل کے ساتھ پیش کرنا دینی تعلیم و تربیت کا اہم تقاضا ہے۔
"نئی نسل کو سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے"
خطبۂ جمعہ کے اس موضوع کے حوالے سے یہ پیغام سامنے آیا کہ نئی نسل کو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت اور خطبۂ فدک کے علمی و اخلاقی مضامین سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نوجوانوں کو قرآن مجید، سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تعلیماتِ اہل بیت علیہم السلام کا مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ ان میں دینی شعور، حق شناسی، علمی تحقیق اور اخلاقی ذمہ داری کا جذبہ پروان چڑھے۔
مولانا محمد معراج رنوی کے خطبۂ جمعہ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ قرآن مجید کی رہنمائی، عدل و انصاف، حقوق کی ادائیگی اور دینی اصولوں سے وابستگی اسلامی زندگی کی بنیادی اقدار ہیں۔ خطبۂ فدک کا مطالعہ مسلمانوں کو ان اقدار کی اہمیت سمجھنے اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بہتر بنانے کی دعوت دیتا ہے۔
خطبہ جمعہ کے آخر میں خطیب جمعہ نے دنیا کے سیاسی حالات و مشکلات پر گفتگو کرتے ہوئے ملک مقدس ایران اور دین مبین اسلام کی سربلندی و سرفرازی کی دعا کے ساتھ ساتھ منجئ عالم انسانیت حضرت حجت علیہ السّلام کے ظہور کی خصوصی دعائیں کیں۔










آپ کا تبصرہ